album cover
Maqaam
3,178
Hip-Hop/Rap
Maqaam was released on March 7, 2021 by takeCTRL as a part of the album Vible - EP
album cover
Release DateMarch 7, 2021
LabeltakeCTRL
Melodicness
Acousticness
Valence
Danceability
Energy
BPM95

Music Video

Music Video

Credits

PERFORMING ARTISTS
superdupersultan
superdupersultan
Performer
JANI
JANI
Performer
COMPOSITION & LYRICS
Ajakeys
Ajakeys
Songwriter
PRODUCTION & ENGINEERING
superdupersultan
superdupersultan
Producer

Lyrics

[Verse 1]
سپنے بہت بڑے تھے میری اوقات سے
میں مارا جاتا انہی حالتوں کے ہاتھ سے
ماں سنے گانے وہ خوش میری آرٹ سے
میں سچ کہوں تو ماں نے پالا بڑے لاڈ سے
جیسا لکھتا ہوں ویسا ہوں بھی
میرے ارادوں کے آگے ڈھہ جائے گا تو بھی
فون بند اب میں نہیں رکھتا رابطے
آج تالی پیٹیں کل تک جلنے والوں میں سے آپ تھے
پریشان میں خستہ مکان میں
ماں کی دعائیں خدا کے حفظ و امان میں
وہ پاسبان ہے وہ پاسبان تھا
میرے ارادوں کو وہی بہتر جانتا
ایسا لگنے لگا مشکلیں ہیں تاک میں
میں اس دن جاگا جس دن دیکھا آنسو باپ کی آنکھ میں
خاک سے خاک میں، آگ سے راکھ میں
میں گھر سے نکلا کرنے مشکلوں کے خاتمے
کافر کو روتے دیکھا
سفر پر نکلے ہوئے مسافر کو کھوتے دیکھا
تو کیسے مجھے آئیں گے پھر یاد سگے
دیکھا زمانہ اپنوں کو اپ نے ڈبوتے دیکھا
جوشِ جوانی میں کہ غلطی کا حساب کہاں
ماں مجھے بولی بیٹا بننا تو نے باپ سا
پر میں خود میں خود کا آئڈل
میں خود کو آئینے میں دیکھوں بولوں کوئی نہیں ہے آپ سا
جوشِ جوانی میں کی غلطیاں سدھاروں
زندگی ایک ریس ہے میں اسے کیسے ہاروں
میں لکھت میں بھی دے چکا ہوں ماں کو
ماں فکر نہ کر میں آنے آنے والا سٹار ہوں
کبھی جیت لگے کبھی لگے ہار بھی
کوششوں سے ہو جاتے ہیں بڑے پار بھی
میں نے قلم اٹھایا تھا یہیں سوچ کے
کہ یہ دنیا بہت پیچھے میری سوچ سے
کچھ دیتے گالی کچھ دیتے ہیٹ بھی
کچھ ماریں تالی تو کچھ کرتے ہیں ریلیٹ بھی
ہم بار بار ٹوٹ کے اداس تھے
نادانیوں میں غلط چنے راستے
ہم سب ہی کے ہی ایک جیسے حال تھے
ہم سب ہی دل میں کچھ سوال تھے
اے زندگی تجھ سے بڑے گلے مجھے
کہ زندگی میں ہوئے بہت ملال تھے
Hustle ki hai
میں نے حسد نہیں کی بھائی
سلطان جانتا ہے
I never lie
نصیب سے ملے
Savage Umar Shareh
جیسے بھائی
So fuck the competition
چھوڑو کون کس سے ہائی
بلا وجہ میں اِن مشکلوں کا بوجھ لوں
اس سے اچھا میں کوئی دوسرا جسم کھوج لوں
یا سوچ لوں مجھ میں کتنے عیب تھے
میں ٹوٹا ہوا مولا غیب سے ہی مدد بھیج دے
[Verse 2]
​ٹوٹے ہوئے، اب وہ مدد بیجا غیب سے
کبھی کبھی شوق بھاری پڑے جیب پہ
دنیا خوش ہوتی میرے ہر ایک عیب سے
تو بھی ہنس لے مجھ پہ اگر تجھ زیب دے
دعا مغفرت میں بیٹھا جنہیں کھو کے
یہ سمجھ آیا کچھ نہیں ملے گا قبر پہ رو کے
ساتھ والے بڑے بھائی دوست ہو کے
غیر ساتھ چلے سگے دے رہے دھوکے
دعاؤں سے تو تھم جاتے ہیں طوفان بھی
میری کامیابی سے ہوتے حیران بھی
نہیں لگا وفا کی امید انسان سے
بن مفاد تو لوٹتے نہیں گردان بھی
ہاں عروج پر تھا پہلے زوال میرا
ہاں صحیح سنا خستہ تھا بہت حال میرا
یہ مشکلیں بہت کچھ سکھاتی ہیں
کس نے کہا ہے دعائیں رنگ نہیں لاتیں ہیں
لمبی ہیں غم کی شامیں مگر شام ہیں
ہم نے، جانا ہے اس کنارے جہاں لہریں بھی ناکام ہیں
وہ ہی مقام تھا وہی مقام ہے
میں اب بھی وہی ہوں، اگر بدلا تو وہ یہ جہاں ہے
وہ مقام تھا اب بھی وہ مقام ہے
جانا ہے اس کنارے جہاں لہریں بھی ناکام ہیں
Written by: AJAKEYS OFFICIAL
instagramSharePathic_arrow_out􀆄 copy􀐅􀋲

Loading...