album cover
Teared Up
65
Hip-Hop/Rap
Teared Up è stato pubblicato il 22 dicembre 2023 da Independent come parte dell'album Teared Up - Single
album cover
Data di uscita22 dicembre 2023
EtichettaIndependent
Melodicità
Acousticità
Valence
Ballabilità
Energia
BPM70

Crediti

PERFORMING ARTISTS
Shareh
Shareh
Performer
superdupersultan
superdupersultan
Performer
PRODUCTION & ENGINEERING
Sultan
Sultan
Producer

Testi

[Verse 1]
​سپنے سجائے ہوئے جب دیکھا تھا ہوئے
وہ خاک سے راکھ
لِکھنے میں بیٹھا ہوں آج تو
نِکلے گی پِھر وَہی بات سے بات
کتنا ہی مانگوں تُجھے
جاگا تھا کِتنی تاک کی رات
جو کرتے تھے وعدہ کہ دیں گے سہارا
اب وَہی نہیں ساتھ میں آج
​میں رہوں بےچین اب چین نہیں کہیں
قلم جب اُٹھے تو لِکھتے ہیں صحیفے
میری نہیں سمجھ میں آتے یہ طریقے
دی تُجھے جیت ہاں مانا تُم صحیح تھے
جہاں تھا چھوڑا ہم ابھی تک وَہیں ہیں
وہ پوچھیں ہم کہتے ہم صحیح ہیں
میں ٹوٹا ہوں کِتنی بار، یہ حال بےحال
اب گِنتی میں نہیں ہے
کہوں ایمان سے، تو تیرے نام سے
ڈرتا ہے دِل یہ کیسا روگ
ذرا سنبھال کے، رکھ دھیان سے
دِل یہ پڑھ گیا کمزور
میرے سوال کے کہیں جواب نہیں
مجھ سے کہتے اکثر لوگ
میرے خیال میں دیکھیں آپ جھانک کے
دِکھتا ہے بس اب افسوس
[Verse 2]
گُھٹتی سانسیں
اکیلے پن سے کرلی کِتنی باتیں
کاٹوں زندگی میں کیسے کیا احساس ہے
آسمان کا رنگ بتاتا کیا مزاج ہے
تو تُم بھی جانتے
[Chorus]
یہ آنسو لے کے بہہ گئے وہ ساری کشتیاں
جو بنیں کاغذوں کی
جن پہ لِکھی داستاں
کہانی جو ہماری آنسوؤں کی
یہ آنسو لے کے بہہ گئے وہ ساری کشتیاں
جو بنیں کاغذوں کی
کہانی اِس جہاں کی
تُمہاری اور ہماری حالتوں کی
[Verse 3]
ابھی جب دیکھتے کبھی ہم مُڑ کے
وَہی سماں ہے وَہی حالات ہیں
اب جب کبھی بھی سوچتے
تیرے بِن جینا بھی کیسا عذاب ہے
دیکھو تُم میرے حِساب سے
تُجھے جب پایا تو مِلے ملال ہیں
جو سمجھ میں بیٹھا تھا پیار
عادت کے نام سے بکتا بازار میں
اب تو سانس بھی لینا حساس ہے
تیری یادیں سمیٹے ہم پاس میں
اب کھو کے بیٹھا جو ہوش
تو لگتی نہ بُھوک نہ لگتی اب پیاس ہے
اب دن ڈھلے تو شام ہے
اُس شام سے اِنتظار ہے
کہ ختم بھی ہوگی یہ صبر کی گھڑی
ہم واقعی کافی بیزار ہیں
تھوڑی مان لیتے بات تُم
تو ساتھ میرے چلتے تو صحیح
ہاں مانا جا چُکے ہو تُم
پر دِل میں میرے بستے ہو اب بھی
[Chorus]
یہ آنسو لے کے بہہ گئے وہ ساری کشتیاں
جو بنیں کاغذوں کی
جن پہ لِکھی داستاں
کہانی جو ہماری آنسوؤں کی
یہ آنسو لے کے بہہ گئے وہ ساری کشتیاں
جو بنیں کاغذوں کی
کہانی اِس جہاں کی
تُمہاری اور ہماری حالتوں کی
Written by: Shareh
instagramSharePathic_arrow_out􀆄 copy􀐅􀋲

Loading...