album cover
Jasmine
4985
Hip-Hop/Rap
Jasmine è stato pubblicato il 29 novembre 2024 da Mass Appeal come parte dell'album My Terrible Mind
album cover
Più popolari
Ultimi 7 giorni
01:25 - 01:30
Jasmine è stata scoperta più frequentemente a circa 1 minuti and 25 secondi dall'inizio la canzone durante la settimana passata
00:00
00:05
00:10
00:40
00:50
01:15
01:25
01:35
01:45
01:50
02:15
00:00
02:48

Crediti

PERFORMING ARTISTS
Talha Anjum
Talha Anjum
Rap
Umair
Umair
Programming
COMPOSITION & LYRICS
Talha Anjum
Talha Anjum
Songwriter
Umair
Umair
Songwriter
PRODUCTION & ENGINEERING
Umair
Umair
Producer

Testi

[Verse 1]
مشہورِ زمانہ ہے، تیری جوانی یہ
تو سب کی چاہت ہے، تجھے کیا چاہیے
دل کو زخم ہے میسر
مرہم کا نہیں ہے تصور
میں اکھڑا سا رہتا ہوں اکثر
بے دلی کا یہ کیسا تسلسل
میری راتیں ہیں روشن اور دن میں اندھیرے ہیں
​بھری محفلوں میں بھی ہم کتنے اکیلے ہیں
تو دنیا کی ہو ہی گئی
محبت ہماری اب کھو سی گئی
تجھے ڈھونڈوں گا اتنی شدت سے میں
مجھے تھوڑی مدت تو دے تو سہی
[Chorus]
​جیسے رات کی رانی
مہک اٹھے سماں، تو کھلے جہاں
چاند کی طرح، روشنی لٹاتی پھرے وہاں
جیسے رات کی رانی
تیری چاہتیں، صحبتیں، کیا ہی رونقیں
تجھ کو چھو لے جو وہ تو جل ہی گیا
جیسے رات کی رانی
تیری چاندنی ہی تو چاہتے سب
جیسے رات کی رانی
سب کھنچتے جائیں تیری طرف
جیسے رات کی رانی
تیری چاندنی ہی تو چاہتے سب
جیسے رات کی رانی
سب کھنچتے جائیں تیری طرف
[Verse 2]
​وہ تیرا چلے آنا
وہ میرا مسکرانا
اب کہاں وہ روایت
اب کہاں وہ زمانہ
تیرا آنکھوں سے پلانا
گرا کے پھر اٹھانا
نہ رہا وہ سرور
نہ ملے وہ مے خانہ، نہ، نہ
او جانم
Through the pain, and the fame, and the stardom
خود سے ہی نہیں رہے آزاد ہم
خود کو کریں گے خود ہی برباد ہم
جب آئی تیری یاد اب
تو کھول لیتا ہوں وہی کتاب اب
پھر کرتا ہوں وہی میں حساب اب
بھلا چاند کے بھی گن سکیں گے داغ ہم
او جانم
[Chorus]
​جیسے رات کی رانی
مہک اٹھے سماں، تو کھلے جہاں
چاند کی طرح، روشنی لٹاتی پھرے وہاں
جیسے رات کی رانی
تیری چاہتیں، صحبتیں، کیا ہی رونقیں
تجھ کو چھو لے جو وہ تو جل ہی گیا
جیسے رات کی رانی
تیری چاندنی ہی تو چاہتے سب
جیسے رات کی رانی
سب کھنچتے جائیں تیری طرف
جیسے رات کی رانی
تیری چاندنی ہی تو چاہتے سب
جیسے رات کی رانی
سب کھنچتے جائیں تیری طرف
Written by: Muhammad Umair Tahir, Talha Anjum
instagramSharePathic_arrow_out􀆄 copy􀐅􀋲

Loading...