album cover
Sometimes
9807
Pop
Sometimes foi lançado em 12 de dezembro de 2023 por Sony Music Middle East / South Asia como parte do álbum Sometimes - Single
album cover
Data de lançamento12 de dezembro de 2023
EditoraSony Music Middle East / South Asia
Melodicidade
Acústica
Valência
Dançabilidade
Energia
BPM70

Vídeo de música

Vídeo de música

Créditos

PERFORMING ARTISTS
AUR
AUR
Performer
COMPOSITION & LYRICS
Raffey Anwar
Raffey Anwar
Composer
Usama Ali
Usama Ali
Lyrics
Ahad Khan
Ahad Khan
Lyrics
PRODUCTION & ENGINEERING
Raffey Anwar
Raffey Anwar
Producer

Letra

[Intro]
چاہتا تجھے غم نہ ملیں
پر چاہتوں پہ چلتے نہ یہ سلسلے
ملنے کی خواہش تھی تجھ سے کبھی
پر کرتا دعا ہوں کہ ہم نہ ملیں
کیوں ہم نہ ملیں
[Chorus]
​چاہتا تجھے غم نہ ملیں
پر چاہتوں پہ چلتے نہ یہ سلسلے
ملنے کی خواہش تھی تجھ سے کبھی
پر کرتا دعا ہوں کہ ہم نہ ملیں
کیوں ہم نہ ملیں کرتا گلے
​کس نے بنائے ہیں یہ سلسلے
یہ شکوے رہے، ہم کہتے رہے
پر میری پکاریں تم سنتے نہ تھے
میں بے وجہ کی بے بسی میں پھنستا جا رہا ہوں
میں اپنی ذمہ داریوں میں دھنستا جا رہا ہوں
میرے ساتھ جو چلے تھے وہ ستارے ڈھل چکے ہیں
یہاں چاند کی طرح اکیلا بس میں رہ گیا ہوں
[Verse 1]
​میں سیاہ آسماں
(میں سیاہ آسماں )
وہ بھی چاند کے بنا
(وہ بھی چاند کے بنا)
جہاں تارے رو رہے ہیں
(تارے رو رہے ہیں)
وہ بھی ٹوٹے بنا
(وہ بھی ٹوٹے بنا)
میں چراغ جیسا ہوں
(میں چراغ جیسا ہوں)
کر دوں روشن یہ جہاں
(کر دوں روشن یہ جہاں)
میرے تلے ہیں اندھیرے
(میرے تلے ہیں اندھیرے)
جس کی روشنی تو تھا
روشنی تو تھا)
[Verse 2]
میں لکھنے بیٹھوں جو پھر تو پھر پوری داستان ہی لکھ دوں
میں لکھ دوں تیرا نام، میری داستان ہی تھی تم
میری بات تم بس اگر ذرا سی بھی سمجھ جاتی
تو آج غزل نہیں، قلم تیری تصویریں بناتی
[Verse 3]
مجھے چھوڑکر نہ جائے گی
(مجھے چھوڑکر نہ جائے گی)
یہ تنہائی مجھے کھائے گی
(یہ تنہائی مجھے کھائے گی)
[Verse 4]
میری جان جا رہی ہے بس یہ سوچ سوچ کے
کہ میری جان، تو اب لوٹ کر نہ آئے گی
ملے درد بہت، پر کم ملے ہمدرد
کیا اتارو گے آنسو کے فرض
یا نبھاؤ گے وعدے وفا کے
یا بن جاؤ گے تم بھی خودغرض
Sometimes I feel like life is a curse
I wanna reverse, I want be alone, I don't wanna do
Didn't know this shit get hurts so much
دل لگے نہ پھر ٹوٹنے کے بعد
تیرے ہاتھ میں تھا ہاتھ، اب حادثے بس یاد
گن گن کے یہ تارے اب کٹتی ہے رات
تم یاد مجھے آئے بہت بھولنے کے بعد
تیرے بعد زندگی، تیرے بعد کیا سفر
بس کاٹنے کو دوڑتا ہے اب مجھے گھر
مجھے خود کا نہ ہوش، مجھے تیری فکر
نہیں آتا ہے تو، نہ ہی تیری خبر
بدلی سی لگتی ہے اب زندگی
ساتھ سب ہے، بس ایک ساتھ تو ہی نہیں
تنہائیوں میں بسا لوں میں خود کو
جو چھپ جاؤں، تجھ کو دکھوں ہی نہیں
سب سے الگ تھی، تو سب سے جدا
نکلی پتھر، تھا تجھ کو تو سمجھا خدا
جب سے پسند تھی تجھے روشنی
تو تب سے ہی جانا میں جل رہا
ملنے سے پہلے ملنے کی باتیں
جل پریوں سے ہر پل بھر کی باتیں
دل ٹوٹا تھا میرا، کب کی بات ہے
پہلے سب ہی تو تھی، اب سب کے بعد ہے
رکھتا ہوں تیری تصویریں سرہانے میں
گھر کو بدل دوں گا اپنے میخانے میں
ملیں گے کیسے ہم خدا ہی جانے
رگوں میں محبت بھی ڈالی خدا نے
خدا کے طریقے پہ ہم چل پڑے
یہاں در بڑے
چاہتا تھا تجھ کو کوئی غم نہ ملے
پر غم ہی ملے
پہلے کرتی تھی مجھ سے تو کتنے گلے،
اب کرنا گلے
اب ڈھونڈے ہمیں تو اور ہم نہ ملیں
شاید ہم نہ ملیں
[Outro]
چاہتا تجھے غم نہ ملیں
پر چاہتوں پہ چلتے نہ یہ سلسلے
ملنے کی خواہش تھی تجھ سے کبھی
پر کرتا دعا ہوں کہ ہم نہ ملیں
کیوں ہم نہ ملیں
Written by: Ahad Khan, Raffey Anwar, Usama Ali
instagramSharePathic_arrow_out􀆄 copy􀐅􀋲

Loading...