album cover
Maikada
54,491
World
Maikada was released on September 3, 2020 by Muhammad Samie as a part of the album Maikada - Single
album cover
Release DateSeptember 3, 2020
LabelMuhammad Samie
Melodicness
Acousticness
Valence
Danceability
Energy
BPM130

Music Video

Music Video

Credits

PERFORMING ARTISTS
Muhammad Samie
Muhammad Samie
Performer
COMPOSITION & LYRICS
Muhammad Samie
Muhammad Samie
Composer

Lyrics

یہ ہے میکدہ ۔ جگر مرادآبادی
یہ ہے میکدہ یہاں رِند ہیں، یہاں سب کا ساقی اِمام ہے
یہ ہے میکدہ یہاں رِند ہیں، یہاں سب کا ساقی اِمام ہے
یہ ہے میکدہ یہاں رِند ہیں، یہاں سب کا ساقی اِمام ہے
یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی، یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی
یہاں پارسائی حرام ہے
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ,
یہ ہے میکدہ,
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ,
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ
جو ذرا سی پی کے بہک گیا، اُسے میکدے سے نکال دو
جو ذرا سی پی کے بہک گیا، اُسے میکدے سے نکال دو
یہاں کم نظر کا گُزر نہیں، یہاں کم نظر کا گُزر نہیں
یہاں اہلِ ظرف کا کام ہے
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ,
یہ ہے میکدہ,
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ,
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ
یہ جنابِ شیخ کا فلسفہ، جو سمجھ میں میری نہ آسکا
یہ جنابِ شیخ کا فلسفہ، جو سمجھ میں میری نہ آسکا
جو وہاں پئیو تو حلال ہے، جو وہاں پئیو تو حلال ہے،
جو یہاں پئیو تو حرام ہے
جو وہاں پیئو تو حلال ہے، جو یہاں پئیو تو حرام ہے
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ,
یہ ہے میکدہ,
یہ ہے میکدہ
کوئی بادہ کش کوئی تشنہ لب، تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے
اب اس میں کوئی کہے گا کیا، یہ تو میکدے کا نظام ہے
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ,
یہ ہے میکدہ,
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ,
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ
یہ ہے میکدہ،
یہ ہے میکدہ،
کُچھ سوچ کے شمعع پہ پروانہ جلا ہوگا
شاید اِسی جلنے میں جینے کا مزہ ہو گا
جِس وقت یہ مے تُو نے بوتل میں بھری ہوگی
ساقی تیرا مستی سے کیا حال ہُوا ہوگا
میخانے سے مسجد تک پائے گئے نقشِ پا
یا رِند گئے ہونگے یا شیخ گیا ہوگا
سب سے بُلند ہے میرے ساقی تیرا مُقام
لیتا نہیں بغیر وُضو تیرا کوئی نام
انسان تو کیا فرشتے بھی کرتے ہیں اِحترام
ہے موہ و آفتاب تیرے میکدے کے جام
قائم مُقام ہے تُو رِسالت مآب کا
قندیلِ عرش ہے تیرا شِیشہ شراب کا
ساقی ڈٹی ہوئی ہے خراباتیوں کی صف
پھیلا ہوا ہے ابرِگوہر باہر ہر طرف
بوتل کا کاک کھول، اُٹھا کیفِ بارِ دف
لا بداِ مدینہ و پیمانہِ نجف
تتحیر کی رِدا ہے فلک پر تنی ہوئی
دے دامنِ رسُولِ خُدا میں چھنی ہوئی
خورشیدِ مُدع میرا بُرجِ شرف میں ہے
اِک ساقی میرا کربلا میں، میرا اِک نجف میں ہے
لو وہ نجف کی سمت سے آنے لگی صدا
ساقی میرا سلامِ ادب لے کہ میں چلا
مولاءِ کائنات اور آواز دے مجھے
اے جبرائیل قُوتِ پرواز دے مُجھے
جو ذرا سی پی کے بہک گیا
اُسے میکدے سے نِکال دو
جو ذرا سی پی کے بہک گیا
اُسے میکدے سے نِکال دو
Written by: Muhammad Samie
instagramSharePathic_arrow_out􀆄 copy􀐅􀋲

Loading...