album cover
Sometimes
9 810
Pop
Sometimes est sorti le 12 décembre 2023 par Sony Music Middle East / South Asia dans le cadre de l'album Sometimes - Single
album cover
Date de sortie12 décembre 2023
LabelSony Music Middle East / South Asia
Qualité mélodique
Acoustique
Valence
Dansabilité
Énergie
BPM70

Clip vidéo

Clip vidéo

Crédits

INTERPRÉTATION
AUR
AUR
Interprète
COMPOSITION ET PAROLES
Raffey Anwar
Raffey Anwar
Composition
Usama Ali
Usama Ali
Paroles
Ahad Khan
Ahad Khan
Paroles
PRODUCTION ET INGÉNIERIE
Raffey Anwar
Raffey Anwar
Production

Paroles

[Intro]
چاہتا تجھے غم نہ ملیں
پر چاہتوں پہ چلتے نہ یہ سلسلے
ملنے کی خواہش تھی تجھ سے کبھی
پر کرتا دعا ہوں کہ ہم نہ ملیں
کیوں ہم نہ ملیں
[Chorus]
​چاہتا تجھے غم نہ ملیں
پر چاہتوں پہ چلتے نہ یہ سلسلے
ملنے کی خواہش تھی تجھ سے کبھی
پر کرتا دعا ہوں کہ ہم نہ ملیں
کیوں ہم نہ ملیں کرتا گلے
​کس نے بنائے ہیں یہ سلسلے
یہ شکوے رہے، ہم کہتے رہے
پر میری پکاریں تم سنتے نہ تھے
میں بے وجہ کی بے بسی میں پھنستا جا رہا ہوں
میں اپنی ذمہ داریوں میں دھنستا جا رہا ہوں
میرے ساتھ جو چلے تھے وہ ستارے ڈھل چکے ہیں
یہاں چاند کی طرح اکیلا بس میں رہ گیا ہوں
[Verse 1]
​میں سیاہ آسماں
(میں سیاہ آسماں )
وہ بھی چاند کے بنا
(وہ بھی چاند کے بنا)
جہاں تارے رو رہے ہیں
(تارے رو رہے ہیں)
وہ بھی ٹوٹے بنا
(وہ بھی ٹوٹے بنا)
میں چراغ جیسا ہوں
(میں چراغ جیسا ہوں)
کر دوں روشن یہ جہاں
(کر دوں روشن یہ جہاں)
میرے تلے ہیں اندھیرے
(میرے تلے ہیں اندھیرے)
جس کی روشنی تو تھا
روشنی تو تھا)
[Verse 2]
میں لکھنے بیٹھوں جو پھر تو پھر پوری داستان ہی لکھ دوں
میں لکھ دوں تیرا نام، میری داستان ہی تھی تم
میری بات تم بس اگر ذرا سی بھی سمجھ جاتی
تو آج غزل نہیں، قلم تیری تصویریں بناتی
[Verse 3]
مجھے چھوڑکر نہ جائے گی
(مجھے چھوڑکر نہ جائے گی)
یہ تنہائی مجھے کھائے گی
(یہ تنہائی مجھے کھائے گی)
[Verse 4]
میری جان جا رہی ہے بس یہ سوچ سوچ کے
کہ میری جان، تو اب لوٹ کر نہ آئے گی
ملے درد بہت، پر کم ملے ہمدرد
کیا اتارو گے آنسو کے فرض
یا نبھاؤ گے وعدے وفا کے
یا بن جاؤ گے تم بھی خودغرض
Sometimes I feel like life is a curse
I wanna reverse, I want be alone, I don't wanna do
Didn't know this shit get hurts so much
دل لگے نہ پھر ٹوٹنے کے بعد
تیرے ہاتھ میں تھا ہاتھ، اب حادثے بس یاد
گن گن کے یہ تارے اب کٹتی ہے رات
تم یاد مجھے آئے بہت بھولنے کے بعد
تیرے بعد زندگی، تیرے بعد کیا سفر
بس کاٹنے کو دوڑتا ہے اب مجھے گھر
مجھے خود کا نہ ہوش، مجھے تیری فکر
نہیں آتا ہے تو، نہ ہی تیری خبر
بدلی سی لگتی ہے اب زندگی
ساتھ سب ہے، بس ایک ساتھ تو ہی نہیں
تنہائیوں میں بسا لوں میں خود کو
جو چھپ جاؤں، تجھ کو دکھوں ہی نہیں
سب سے الگ تھی، تو سب سے جدا
نکلی پتھر، تھا تجھ کو تو سمجھا خدا
جب سے پسند تھی تجھے روشنی
تو تب سے ہی جانا میں جل رہا
ملنے سے پہلے ملنے کی باتیں
جل پریوں سے ہر پل بھر کی باتیں
دل ٹوٹا تھا میرا، کب کی بات ہے
پہلے سب ہی تو تھی، اب سب کے بعد ہے
رکھتا ہوں تیری تصویریں سرہانے میں
گھر کو بدل دوں گا اپنے میخانے میں
ملیں گے کیسے ہم خدا ہی جانے
رگوں میں محبت بھی ڈالی خدا نے
خدا کے طریقے پہ ہم چل پڑے
یہاں در بڑے
چاہتا تھا تجھ کو کوئی غم نہ ملے
پر غم ہی ملے
پہلے کرتی تھی مجھ سے تو کتنے گلے،
اب کرنا گلے
اب ڈھونڈے ہمیں تو اور ہم نہ ملیں
شاید ہم نہ ملیں
[Outro]
چاہتا تجھے غم نہ ملیں
پر چاہتوں پہ چلتے نہ یہ سلسلے
ملنے کی خواہش تھی تجھ سے کبھی
پر کرتا دعا ہوں کہ ہم نہ ملیں
کیوں ہم نہ ملیں
Written by: Ahad Khan, Raffey Anwar, Usama Ali
instagramSharePathic_arrow_out􀆄 copy􀐅􀋲

Loading...