album cover
album cover
Anjaan was released on September 3, 2021 by Mass Appeal as a part of the album Anjaan - Single
September 3, 2021
LabelMass Appeal
BPM66
Melodicness
Acousticness
Valence
Danceability
Energy

Lyrics

[Chorus]
واقف حقیقت سے پھر بھی انجان ہیں
(انجان ہیں)
اشکوں سے بہہ جائے ریت کا مکان یہ
(او وو او وو)
زمانے سے میں باغی کیوں منافقوں میں داغی ہوں
میں بھولا اپنا ماضی ہوں پھر ہو نہ مجھ سے راضی تو
میں مشکلوں کا عادی ہوں
کہہ دوں میں تجھ کو کافی کچھ یہ دل بہا بہا ہے
[Verse 1]
میں میر کا درد ہوں
میں اقبال کا خواب ہوں
امید کی کرن اک
بس تھوڑا سا حاضر جواب ہوں
کیسے گھونٹتے گلا اس کلا کا
زمانہ جلا تھا بتا تو کرا کیا
کیا کروں صلاح کا
لکھتا جب بلا کا
پھر بھی نہیں بن سکتا میں مر کے بھی طلحہ سا
زندگی سفر یہ کہنا آسان تھا
کیا لڑتا تجھ سے میں خود سے بیزار تھا
وہ جشن مناتے پھر میری ہار کا
بھلے مت پڑھیوں اس قبر پر فاتحہ
وہ اپنے انجانے نہ ہوتے
تو لکھے یہ گانے نہ ہوتے
پر تم بھی دیوانے نہ ہوتے
اگر ہم مشہور زمانہ نہ ہوتے
کلا ہی کیا جسے ہو نہ متاثر
وہ الفت ہی کیسی جو بنا دے کافر
وہ سفر ہی کیا جو بھٹکے نہ مسافر
ہم خانہ بدوش کہاں جائیں آخر
ڈرے نہیں خطروں سے، سر کھولے پتھروں سے
خون لگے کپڑوں پہ، رویا بڑی قبروں پہ
دل بڑے سپنوں سے، لڑ پڑے اپنوں سے
آنکھوں دیکھا حال میرا، قلم بھرے زخموں نے
[Chorus]
واقف حقیقت سے پھر بھی انجان ہیں
(انجان ہیں)
اشکوں سے بہہ جائے ریت کا مکان یہ
(او وو او وو)
زمانے سے میں باغی کیوں منافقوں میں داغی ہوں
میں بھولا اپنا ماضی ہوں پھر ہو نہ مجھ سے راضی تو
میں مشکلوں کا عادی ہوں
کہہ دوں میں تجھ کو کافی کچھ یہ دل بہا بہا ہے
[Verse 2]
آج کل رہے دل یہ اداس میرا
ساتھ چل میرے دل یہ آواز دے رہا
ویسے نام میرا لیتے تو کافی ہیں
چند لوگ دل سے پوچھتے جو حال میرا
بادل سر پہ کالی گھٹا جیسا
بنا درد زندگی کا مزا کیسا
ویسے ہم تو شروع سے ہی باغی ہیں
میں نے موت کو خود اپنا پتہ بھیجا
لو کی، مگر ڈھونڈ لیتے فینز اب
کیمرہ نکالیں فورا جیسے بولیں ہینڈز اپ
پولیس لگی پیچھے لے کر ہینڈکف
چار سو بیس، مگر لوگ دیتے میڈ لو
سب کی امید کہ میں کر دوں گا سیٹ سب
سوچتا کبھی کہ میں چھوڑ دوں کیا ریپ اب
I don't wanna leave
اتنے سال تجھے دیکھ کر
تیرے بنا جینے سے مرنا ہی بہتر
اسٹار والا نہیں اصلی کا ریپر
پھاڑ دوں میں تجھ جیسا نقلی کا ریپر
پیار میرا آرٹ، میرے جانے کے بعد بھی
کریں گے مجھے یاد
کہ میں نسلی تھا ریپر
منہ سے ہگتے کریں خالی شٹ ٹاک
میرا رائٹر تیرا آتا شٹ بلاک
میرے گانے پہ تیری بیبی کی ٹک ٹوک
میرے بنا پورا کیسے ہوتا ادھر ہپ ہاپ
میرا راج رہے گا بنا تاج کے
میرا آج بنے گا اتہاس یہ
جان ڈالی گیم میں، گیم میری جان
تجھے بھوک خالی فیم کی تو مان یا نہ مان
تیری اک نئی زبان، نہ کوئی دین نہ ایمان
تو پھر تو کم نسل تو پھر تو بدگمان
کتنا کما لے گا بن کے بے ایمان
اک دن تو نے بھی دینی ہے رب کو ہی جان
[Chorus]
واقف حقیقت سے پھر بھی انجان ہیں
(انجان ہیں)
اشکوں سے بہہ جائے ریت کا مکان یہ
(او وو او وو)
زمانے سے میں باغی کیوں منافقوں میں داغی ہوں
میں بھولا اپنا ماضی ہوں پھر ہو نہ مجھ سے راضی تو
میں مشکلوں کا عادی ہوں
کہہ دوں میں تجھ کو کافی کچھ یہ دل بہا بہا ہے
[Verse 3]
لکھے ہیں گانے بڑے میں دیوانوں سے اپنے یہ کہتا رہا
لکھدیں افسانے بڑے مگر کاغذوں پہ لہو بہتا رہا
مہمانوں کو سہتا رہا، گھر میری خوشبو سے مہکا رہا
کہانیاں سن سن میں بہکا رہا
جب اصل میں دیکھا تو قہقہ لگا
دکھاوے کی دنیا سے عاجز ہوں، گھٹ رہا
جیسے جو برسے وہ بادل ہوں
بیٹھے امیدوں میں غصے میں آکے رہوں جانے
منافق منکر ہوں پھر بھی گھر پہ دعوت دوں
کس سے گلہ کروں، کس کو برا کہوں
کس کو میں جا کے یہ قصے بیاں کروں
کہتے ہم دشمن تیرے میں دعا کروں
لفظوں کے قیدی ہیں گھر سے رہائی کروں
کلاکار بنے ویرے پر انسان نہیں
مجھے معلوم نہیں ہے قیمت اپنے نام کی
مال بہت ہے پر کرنے نہ دے چھان بین
سلم ڈوگ ملنیئر بنے میرے گاندھی
سرحد پار میرے یار پوچھے حال میرا
کوئی سگے یار نئی مناؤں گا میں سالگرہ
چھو کے دیکھا بال میرا آکے خود ہی گال دے رہا
دیں وہ مثال میری جیسے میں مثال دیتا
انداز بیان یہ الگ اتنا
تصویریں بناتا رہا
چاہے اپنے بھی مخالف ہوں
گانے تو گاتا رہا
میں مرزا میں غالب کے جیسے
علم میں اضافہ رہا
لڑ لیں گے بنا تلواروں کے
اِن ہاتھوں سے وعدہ رہا
[Chorus]
واقف حقیقت سے پھر بھی انجان ہیں
(انجان ہیں)
اشکوں سے بہہ جائے ریت کا مکان یہ
(او وو او وو)
زمانے سے میں باغی کیوں منافقوں میں داغی ہوں
میں بھولا اپنا ماضی ہوں پھر ہو نہ مجھ سے راضی تو
میں مشکلوں کا عادی ہوں
کہہ دوں میں تجھ کو کافی کچھ یہ دل بہا بہا ہے
Written by: JANI, Nabeel Akbar, Talhah Yunus
instagramSharePathic_arrow_out􀆄 copy􀐅􀋲

Loading...