album cover
Anjaan
46,110
Pop
Anjaan was released on September 3, 2021 by Mass Appeal as a part of the album Anjaan - Single
album cover
Release DateSeptember 3, 2021
LabelMass Appeal
Melodicness
Acousticness
Valence
Danceability
Energy
BPM

Music Video

Music Video

Credits

PERFORMING ARTISTS
JANI
JANI
Performer
superdupersultan
superdupersultan
Performer
PRODUCTION & ENGINEERING
Umair Khan
Umair Khan
Mixing Engineer, Mastering Engineer
Sultan
Sultan
Producer

Lyrics

واقف حقیقت سے پھر بھی انجان ہیں (انجان ہیں)
اشکوں سے بہہ جائے ریت کا مکان یہ (Woah-oh)
زمانے سے میں باغی کیوں؟ منافقوں میں داغی ہوں
میں بھولا اپنا ماضی ہوں، پھر ہو نا مجھ سے راضی تُو
میں مشکلوں کا عادی ہوں
کہہ دوں میں تجھ کو کافی کچھ، یہ دل بیابان ہے
میں میر کا درد ہوں (Yeah)، میں اقبال کا خواب ہوں (خواب)
امید کی کرن ایک (Yeah)، بس تھوڑا سا حاضر جواب ہوں
کیسے گھونٹتے گلا اس کلا کا، زمانہ جلا تھا
بتا تُو کرا کیا؟ کیا کروں صلاح کا؟
لکھتا جب بلا کا، پھر بھی نہیں بن سکتا مر کے میں Talha سا
زندگی سفر، یہ کہنا آسان تھا
کیا لڑتا تجھ سے؟ میں خود سے بیزار تھا
وہ جشن مناتے پھر میری ہار کا
بھلے مت پڑھیو اس قبر پہ فاتحہ
وہ اپنے انجانے نہ ہوتے (Yeah)، تو لکھے یہ گانے نہ ہوتے
اور تم بھی دیوانے نہ ہوتے اگر ہم مشہورِ زمانے نہ ہوتے
کلا ہی کیا جس سے ہو نہ متاثر؟
وہ الفت ہی کیسی جو بنا دے کافر؟
وہ سفر ہی کیا جو بھٹکے نہ مسافر؟
ہم خانہ بدوش کہاں جائیں آخر؟
ڈرے نہیں ہے خطروں سے، سر کھولے پتھروں سے (Yeah)
خون لگے کپڑوں پہ، رویا بڑی قبروں پہ
دل بڑے سپنوں سے، لڑ پڑے اپنوں سے
آنکھوں دیکھا حال میرا، قلم بھرے زخموں نے
واقف حقیقت سے پھر بھی انجان ہیں (انجان ہیں)
اشکوں سے بہہ جائے ریت کا مکان یہ (Woah-oh)
زمانے سے میں باغی کیوں؟ منافقوں میں داغی ہوں
میں بھولا اپنا ماضی ہوں، پھر ہو نا مجھ سے راضی تُو
میں مشکلوں کا عادی ہوں
کہہ دوں میں تجھ کو کافی کچھ، یہ دل بیابان ہے
آج کل رہے دل یہ اداس میرا
ساتھ چل میرا دل یہ آواز دے رہا
ویسے نام میرا لیتے تو کافی ہیں
چند لوگ دل سے پوچھتے جو حال میرا
بادل سر پہ کالی گھٹا جیسا
بنا درد زندگی کا مزہ کیسا؟
ویسے ہم تو شروع سے ہی باغی ہیں
میں نے موت کو خود اپنا پتہ بھیجا
Low-key مگر ڈھونڈ لیتے fans اب
کیمرہ نکالیں فوراً جیسے بولیں hands up
Police لگی پیچھے لے کے handcuff
420 مگر لوگ دیتے mad love
سب کی امید کہ میں کر دوں گا set سب
سوچتا کبھی کہ میں چھوڑ دوں کیا rap اب؟
I don't wanna leave, اتنے سال تجھے دیکھ کر
تیرے بنا جینے سے مرنا ہی بہتر
Star والا نہیں، اصلی کا rapper
پھاڑ دوں میں تجھ جیسا نقلی کا rapper
پیار میرا art میرے جانے کے بعد بھی
کریں گے مجھے یاد کہ میں نسلی تھا rapper
منہ سے ہگتے، کریں خالی shit talk
میرا writer، تیرا آتا shit block
میرے گانوں پہ تیری baby کے TikTok
میرے بنا پورا کیسے ہوتا ادھر hip hop
میرا راج رہے گا بنا تاج کے
میرا آج بنے گا اتہاس یہ
جان ڈالی game میں، game میری جان
تجھے بھوک خالی fame کی، تُو مان یا نہ مان
تیری ایک نہیں زبان، نہ کوئی دین نہ ایمان
تو پھر تُو کم نسل، تو پھر تُو بدگمان
کتنا کما لے گا بن کے بے ایمان؟
ایک دن تُو نے بھی دینی ہے رب کو ہی جان
واقف حقیقت سے پھر بھی انجان ہیں (انجان ہیں)
اشکوں سے بہہ جائے ریت کا مکان یہ (Woah-oh)
زمانے سے میں باغی کیوں؟ منافقوں میں داغی ہوں
میں بھولا اپنا ماضی ہوں، پھر ہو نا مجھ سے راضی تُو
میں مشکلوں کا عادی ہوں
کہہ دوں میں تجھ کو کافی کچھ، یہ دل بیابان ہے
لکھے ہیں گانے بڑے، میں دیوانوں سے اپنے یہ کہتا رہا
لکھ دیں افسانے بڑے، مگر کاغذوں پہ لہو بہتا رہا
مہمانوں کو سہتا رہا، گھر میری خوشبو سے مہکا رہا
کہانیاں سن-سن میں بہکا رہا
جب اصل میں دیکھا تو قہقہہ لگا
دکھاوے کی دنیا سے آجز ہوں، گھٹ رہا
جیسے جو برسے وہ بادل ہوں
بیٹھے امیدوں میں، غصے میں آ گروں
جانیں منافق، مگر پھر بھی دعوت دوں
کس سے گلہ کروں، کس کو برا کہوں؟
کس کو میں جا کے یہ قصے بیاں کروں؟
کہتے ہم دشمن تیرے، میں دعا کروں
لفظوں کے قیدی، یہ کیسے رہا کروں؟
کلاکار بنے پھریں پر انسان نہیں
مجھے معلوم نہیں ہے قیمت اپنے نام کی
مال بہت ہے پر کرنے نہ دیں چھان بین
Slumdog Millionaire, بنے پھریں گاندھی
سرحد پار میرے یار پوچھیں حال میرا
کھوئے سگے یار نہیں، مناؤں گا میں سالگرہ
چھو کے دکھا بال میرا، آ کے خود ہی گال دے رہا
دیں گے وہ مثال میری جیسے میں مثال دیتا
انداز بیاں یہ الگ اتنا، تصویریں بناتا رہا
چاہے اپنے بھی مخالف ہوں، گانے تو گاتا رہا
میں مرزا میں غالب کے جیسے، علم میں اضافہ رہا
لڑ لیں گے بنا تلواروں کے، ان ہاتھوں سے وعدہ رہا
واقف حقیقت سے پھر بھی انجان ہیں (انجان ہیں)
اشکوں سے بہہ جائے ریت کا مکان یہ (Woah-oh)
زمانے سے میں باغی کیوں؟ منافقوں میں داغی ہوں
میں بھولا اپنا ماضی ہوں، پھر ہو نا مجھ سے راضی تُو
میں مشکلوں کا عادی ہوں
کہہ دوں میں تجھ کو کافی کچھ، یہ دل بیابان ہے
Written by: JANI, Nabeel Akbar, Talhah Yunus
instagramSharePathic_arrow_out􀆄 copy􀐅􀋲

Loading...