album cover
Hasrat
12,166
Rap
Hasrat was released on June 16, 2021 by rearts records as a part of the album Hasrat - Single
album cover
Release DateJune 16, 2021
Labelrearts records
Melodicness
Acousticness
Valence
Danceability
Energy
BPM86

Music Video

Music Video

Credits

PERFORMING ARTISTS
Rausheen Hassan
Rausheen Hassan
Performer
aleemrk
aleemrk
Rap
COMPOSITION & LYRICS
aleemrk
aleemrk
Songwriter
PRODUCTION & ENGINEERING
aleemrk
aleemrk
Producer

Lyrics

[Verse 1]
خدا کرم کر تو، کر دے قریب اپنے
ابھی تو جینا ہے مجھے، پورے کرنے گھر كے سپنے
نرم مزاج تھا، حالتوں نے بنایا سخت ہے
کوئی نہیں سگا میرا، دکھایا مجھے وقت نے
کوئی میرا سگا نہیں یہاں، کس نے میرا حال دیکھا
پچیس ہزار کی نوکری کیسے گھر سنبھال لے گا
مانگیں گے چاول تو کیسے ان کو دال دیگا
تجھ سے نہیں پوچھ رہا یہ خود سے ہے سوال میرا
[Verse 2]
خود سے سوال میرا، بڑھوں گا میں آگے کیسے
پیرو میں کانچ ہے تو سڑکو پہ ہم بھاگیں کیسے
نشانہ داغْا کیسے تیر کا اتا پتا نہیں ہے
پسند ہے پیسہ اس کو ، میری اِس میں خطا نہیں ہے
ہاں اس میں وفا نہیں ہے کیوں اِس میں نفع نہیں ہے
اسے تو آج تک لگتا ہے رب بھی اس سے خفا نہیں ہے
اگر وہ روٹھا نہیں تو دِل میں کیوں سکون نہیں
میں بکتا نہیں ہوں مجھے بازاروں میں ڈھونڈ نہیں
[Verse 3]
جب آپ کچھ کر نہیں سکتے، میرے بارے میں بکو گے ہی
سگوں کا ساتھ کیسے چھوڑتے دیکھا سگوں سے ہی
تھالی ہے خالی تو غائب سارے جالی
لیکن جب بڑھے گی، سب سے پہلے تم ہی اُسکو چکھو گے بھی
عمر تھی سات دیکھے چار جنازے میں نے
جھوٹ نہیں بولوں گا بھنڈ مارے ہیں دبا كے میں نے
چھوٹی سی عمر میں ہی جلن دیکھی رشتوں میں
راشن آتے دیکھا اپنے گھر پہ میں نے قستو پہ
[Verse 4]
تو مجھے سکھا مت کہ زندگی ہے
Tough
کتنی، اور نا ہی سکھا مجھے کیسے یہاں پر چلنا ہے
میرا کوئی ایم نہیں ہے گھر میں وئیگو کھڑی کرنا
بس مجھے کسی كے بھی پیسوں پہ نہیں پلنا ہے
بہت کچھ یاد آتا ہے تیرے اِک یاد آنے سے
بھوکا ہی مر جاؤ میں یہ بہتر ہے آس کھانے سے
خود سے ناراض ہو کیا لڑوں زمانے سے
کیا ہی تیرے راز کھولوں خود کو کہتا ہو جانے دے
[Verse 5]
قسم سے مجھے میری زون كے نہیں لگتے تم
قسم سے مجھے تھوڑے دوغلے بھی لگتے تم
کبھی تعریف کرتے کبھی کرتے غیبت سالے
سچ بتاؤں تو مجھے ہوش میں نہیں لگتے تم
اے خدا میں جب بھی زندگی میں ٹھوکر کھاتا
میں سارے کام چھوڑ كے سجدہ کرنے پہنچ جاتا
اور جب بھی زندگی یہ بازیاں جیتاتی ہیں
میں بھول جاتا ہو تجھے، مجھے نیند کیسے آتی ہے
[Verse 6]
ہاں میرا بچپن میرا لڑکپن تھا
دبایا دُنیا نے تو سیکھا میں نے کڑک بنا
ہاں میری خواہش ہے چھوٹی پر وہ جیب پہ کافی بھاری ہے
ماں کو کرنا ہے حج اور وہ میری ذمہ داری ہے
خوشیاں ساری سائڈ کری خواہشوں کو ٹال کر
آگے بھرا خود پِھر سب کو دِل سے میں نکال کر
کہا آتا جاتا ہے تو خانہ کیوں نہیں کھاتا ہے
میں ترس گیا ہو ماں تو پِھر سے واپس اک سوال کر
[Verse 7]
دیکھ نا زمانے نے یہ کیسا میرا حال کیا ہے
قسمت کا بھی پَھڈّا مجھ سے دیکھ کیسا زوال دیا ہے
میرا تو سَر ماں اونچائیاں کو چھوتا تھا
آج انا کو بھی اپنی میں نے چھ فٹ اندر گاڑ دیا ہے
یہ تو وہ دکھ ہے جو بتائے میں نے
اب وہ سوچو جو چھپا رہا ہوں
محفل میں بیٹھو گے تو جانو گے نا مجھے تم
اُن کی نظر میں تو ہمیشہ بُرّا رہا ہوں
Written by: aleemrk
instagramSharePathic_arrow_out􀆄 copy􀐅􀋲

Loading...