album cover
Midnight
3,930
Rap
Midnight was released on October 15, 2023 by rearts records as a part of the album Midnight - Single
album cover
Release DateOctober 15, 2023
Labelrearts records
Melodicness
Acousticness
Valence
Danceability
Energy
BPM109

Music Video

Music Video

Credits

PERFORMING ARTISTS
aleemrk
aleemrk
Performer
Jokhay
Jokhay
Performer
Umair Khan
Umair Khan
Sampler
Aleem Altaf
Aleem Altaf
Rap
COMPOSITION & LYRICS
aleemrk
aleemrk
Songwriter
PRODUCTION & ENGINEERING
Umair Khan
Umair Khan
Producer

Lyrics

[Chorus]
بے چینی سر میرا کھاتی ہے روز
سکون ڈھونڈا نہیں مِلا کو دئے ہوش
آج میرے نام پہ اُچھال لوگے کیچڑ
کل کو اُچھالنے سے ڈرو گے دوست
کل کو بتانے سے ڈرو گے سب کو کہ
میرے اِس بندے سے تعلق خراب
کل کو بلندیاں چُھو لوں گا اتنی
کچھ بولنے سے پہلے بھی سوچیں گے آپ
کتنا بولوں کہ میں جی نہیں پا رہا
تو خیال رکھ تھوڑا حال پوچھ لیا کر
کتنا سوچوں تیرے بارے اب میں اور
میری بس ہو گئی جان میرا ٹوٹ رہا صبر
میری زندگی میں لوگ تو ہیں کافی
پر وہ لوگ نہیں ہیں وہ جن پے
I would rely
میری زندگی میں دوست تو ہیں کافی
پر وہ دوست ہی نہیں ہے
جس کو سب کچھ بتائے
کبھی کسی نے بھی نہیں پوچھا میرا حال
کرا ایک ہی سوال کہ بس گانا کب آ رہا ہے
علیم جی رہا ہے یا مر رہا ہے
کیا فرق پڑتا ہے یار
کوئی جاننا ہی نہیں چاہ رہا ہے
ایک عرصے سے خاموش ہوں بولنے کا من ہے
پر سننے والے رہتے دور مجھ سے
کل کو کوئی مار دے انجانے میں خود کو تو
چونکنا مت ہم ہی مجبور کرتے
[Verse 1]
عجیب سی سوچ میں ڈوبا جا رہا
کیا کروں سمجھ نہیں آتا نا
سمجھ نہیں آتا کوئی آ کے سمجھا دے
اتنے پیار کے باوجود بھی وہ آ کے کیوں نہ دے
اِک عرصے سے مِلا رہے سب ہاں میں ہاں میری
مجھے چاہیے کوئی آ کے میری غلطیاں گنا دے
یار مانتا ہوں تمہاری میری سُنا تو کرو
اتنا بُرا بھی نہیں ہوں اتنا بُرا نہ کرو
میرے آس پاس کوئی بچا نہیں بات کرنے لائق
تم سب آس پاس والوں سے مِل کے صُلح تو کرو
I'm just sad these days
کوئی مِلنے نہ آئے، مجھ سے دِل نہ لگائے
Why you act these days?
میرے سامنے تم بول سکتی ہو جو من میں آئے
I swear
میں نہی جج کرتا خود ایسا ہوں
میں بھی تنہا تیری طرح خود میں خوش بیٹھا ہوں
میں تھا سکول کے دِنوں میں حد سے زیادہ بدتمیز
پھر کوئی دِل نہ دُکھا دوں اس لیے چُپ رہتا ہوں
دِل ہے دُکھائے بڑے دِل ہے دُکھائے
معافی ملی ہے کہ نہیں مجھے پتا بھی نہیں
اپنے نیچے والوں سے میں تبھی جان کر ملتا ہوں
خوشیاں بانٹنے کی ڈھونڈتا کوئی وجہ بھی نہیں
جتنا بہتر کر لوں خود کو سالے کوستے رہیں گے
کچھ نہیں ہو گا تجھ سے روک روک کے ٹوکتے رہیں گے
ابے دُنیا کا سب سے اچھا کام بھی کر لے گا
اُس کے بعد بھی یہ بُرا بھلا بولتے رہیں گے
جتنا بہتر کر لوں خود کو تب بھی ہیٹ تو ملے گا ہی
ناممکن ہے کرنا یہاں سب کو سٹیسفی
انسان دھوکے باز کبھی ادھر کبھی اُدھر
اِس سے بہتر ہے کہ کروں اپنے رب کو سٹیسفی
[Verse 2]
گِر کے سجدے میں میں
جاگوں اپنوں کے لیے اُن کے سپنوں کے لیے
زیادہ کہتا نہیں میں
وہ جانتا ہے خُوب میں اِس دُنیا سے تنگ
[Chorus]
بے چینی سر میرا کھاتی ہے روز
سکون ڈھونڈا نہیں مِلا کو دئے ہوش
آج میرے نام پہ اُچھال لوگے کیچڑ
کل کو اُچھالنے سے ڈرو گے دوست
کل کو بتانے سے ڈرو گے سب کو کہ
میرے اِس بندے سے تعلق خراب
کل کو بلندیاں چُھو لوں گا اتنی
کچھ بولنے سے پہلے بھی سوچیں گے آپ
Written by: Dark Vibes Records, aleemrk
instagramSharePathic_arrow_out􀆄 copy􀐅􀋲

Loading...